February 23, 2009
-
زندگی کا ڈرامے بھی عجیب ہوتے ہیں خاص کر میرے ساتھ تو بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں شاید میری زندگی ہی ڈرامہ ہے ایسے موقعے پر مجھے حضرت خالد اقبال تایب صاحب کا سنایا ہوا ایک شعر یاد آگیا حضرت نے کیا خوب فرمایا
زندگی افسانہ در افسانہ ہے
بس افسانوں کے عنوان بدل جاتے ہیں
یہ ہی میری زندگی کا حال ہے بس افسانوں کے عنوان بدل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
اچھی دو ایک مہنے پہلے کیا ہوا سیمیسٹر ختم ہوا اور نیا سیمیسٹر شروع ہو گیا مجھے سب سے پہلی فکر یہ ہی لگی کہ جب گھر میں رزلٹ آے گا تو ابو میری کیا خاطر توازو کریں گے خیر جوتے تو اب نہیں لگتے لیکن اچھی خاصی عزت ضرور ہو گی ۔۔۔۔۔ لیکن مزے کی بات یہ ہوی ہے کہ مجھے پہلے ہی کالج میں داخلہ مل گیا ہے اور اسی کورس میں ملا ہے جس میں میںچاہتا تھا اب میں 12 گریڈ میں ہوں اور آخری سیمیسٹر ہے خیر یہ بات تو ضمنا” آگی تھے اوہ یاد آیا میں آج زندگی میں پہلی دفعہ یہ لفظ استعمال کیا ہے لول خیر ۔۔۔۔ تو ہوا یہ کہ جب سیمیسٹر کا پہلا دن ہوتا ہے تو وہ اصل میں کچھ نہیں ہوتا ہمیں صرف اپنی پرانی کلاس کے ہوم فارم کلاس میں جا کر نیئ کلاسوں کا ٹایم ٹیبل لینا ہوتا ہے اور پھر اپنی کلاسیں ڈھونڈنی ہوتی ہیں تا کہ اگلے دن ڈھونڈنی نہ پڑیں ۔۔۔۔ تو میں صبح بادل نا خواستہ سکول گیا اور ہوم فارم کلاس جو میری ورلڈ ریلیجن کی کلاس تھی اس میں گیا کافی لوگ وہاں میرے سے پہلے موجود تھے میں نے وہاں جا کر کرسی پر بیٹھ کر تھوڑی دیر آرام کیا اور پھر مس تھامس کے پاس گیا کہ مس کیا مجھے میرا ٹایم ٹیبل مل سکتا ہے مس نے کہا ہاں اور مجھے ایک ہے رنگ کا کاغذ پکڑا دیا جس پر لکھا تھا کہ اس بندے نے انگلش فیل کر دی ہے اسکو گایڈینس آفس بھجیں تاکہ اگلے سیمیسٹر کے لیے اسکا کوی اور بندوبست کیا جا سکے کاغذ دیکھ کر برف میں جن پیروں سے چل کر آیا تھا وہ پیر برف محسوس ہوے تھوڑا غصہ بھی آیا خیر میں what the hell کا نعرہ لگاتے ہوے آفس کی طرف چل دیا وہاںگیا تو دیکھا میرے جیسے کافی اور بھی موجود تھے اور لمنی لاین لگی ہوی تھی جو آُفس کے باہر تک کافی بنی ہوی تھی پتا نہیں کون کون Tom Dick and harry وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔ میرے غصے میں مزید اضافہ ہوا خیر میں نے لاین میں کھڑے ہونا گوارا نہیں کیا اور میں تھوڑی دور ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا جو باہر والی کھڑکی کے ساتھ بنا ہوا تھا اور آتی جاتی گاڑیا دیکھنے لگا کافی دیر جب اس سے بھی دل بھر گیا تو میں نے سوچا فرنٹ فویے سے کچھ اخبار لے آتا ہوں ان سے دل گزاری کر لوںگا اخبار لینے گیا تو وہاں ع اور میرا چھوٹا بھای پہلے سے ہی بیٹھے تھے پوچھنے لگے کیا کر رہے ہو ابھی تک یہاں گھر نہیں گیے میں نے سوچا اب ان کو بتاوںگا تو ایویں میں نے منہ ہلا دیا بکری کی طرح اور اخبار اٹھا کر پھر وہیں جا کر بیٹھ گیا خیر لاین ختم ہوی تو میں آفس میں جا کر انکو وہ کاغذ دیا انہوں نے مجھے ایک کاونسلر کے پاس بھیج دیا اس نے مجھے سبجیکٹ چینج کرنے لگی اور وہ ہی کورس دوبارہ دینے لگی جو میں فیل کر چکا تھا میں نے کہا آنٹی کیا کر رہی ہیں دوبارہ فیل کروایں گے یونیورسٹی انگلش کی بجاے کالج انگلش دے دیں وہ آسان ہے اس نے مجھے وہ دیتے ہوے اچانک پوچھ لیا کہ تمہارے نمبر کتنے آے تھے میں نے کہا آ گے ہوں گے کوی 48 یا 49 کہنے لگی نہیں ایسا نہیں ہوتا اگر اتنے آتے تو مس ایک دو اور دیے کر پاس کر دیتی میں نے کہا اب میں اتنا گیا گزرا بھی نہں ہوں کہ اس سے کم لوں خیر مس کو میرے کانفیڈینس سے حوصلہ ہوا اور انہوں نے اٹھ کر اس باینڈر کی طرف نظر کرم کی جس میں فیل ہونے والوں کے نام لکھے ہوے تھا اللہ اللہ کر کے پتا چلا کے میرا نام ہی نہیں ہے لول مس نے کہا کہ جاو اپنی انگریزی کی مس سے پوچھ کر آو کیا مسلہ ہے میں ہونقوںکی طرح جا کر انگلش آفس کے دروازے پر دستک دی اور خوش قسمتی سے میری ہی مس نے دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔ اور مجھے دیکھتے ہی اور اندر گئیں اور نمبر لسٹ لے کر آین اور مجھے بتایا کہ تم بدقسمتی سے پاس ہو گے ہو میں نے انکو وہ ہرا پیپر دکھاتے ہوے کہا کہ پھر کیا مصیبت ہے انہوں نے میرے ساتھ گایڈنس آفس کا رخ کیا اور وہاں جا کر پتا چلا کہ غلط فہمی ہو گی تھی خیر مجھے میرا وہ ہی کورس واپس ملا اور میں اپنا آدھا دن فضول میں برباد کر کے گھر پہنچا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سٹوری کا کوی مورل نہیں کونکہ یہ کوی سٹوری تو ہے نہں فقط بکواس ہے اگر آپ نے پڑھا ہے تو شاید ویسے ہی ٹایم ضایع کیا جیسے میں نے وہاں بیٹھ کر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں پھر وہی زندگی افسانہ در افسانہ ہے بس افسانوں کے عنوان بدل جاتے ہیں
Posted in Uncategorized | Leave a Comment »
February 23, 2009
ابھی لنچ بریک کے بعد میرا میتھ کا پیریڈ تھا اسکے بعد سپیر یعنی کے کوی کلاس نہیںمیرا بلکل بھی دل نہیں کیا کہ میتھ کی کلاس میں بھی جاوں مجھے لایبرری سے لای ہوی ان کتابوں کی یاد آیی جو کافی دنوں سے میرے کمپیوٹر میز کے ایک بنا دروازے کے دراز میں پڑیں تھیںسوچہ کافی فاین لگ گیا ہو گا پھر انکو اٹھایا اور بیگ میں ڈال کر گھر والوں کو سکول کا تاثر دے کر میںنے لایبرری کا قصد کیا یہاں آیا تو سوچا اب ٹایم پاس کرنے کہ کچھ کرنا تو ہے ہی اسی لیے اوردو کتابوںوالے سیکشن کی طرچ چل دیا وہاں کافی کتابیں آج غایب تھیں شاید دوسری لایبرری میں بھیج دی ہوں خیر مری نظر طارق اسمعیل ساگر کی ایک کتاب کی طرف پڑی جو خالصتان سے متعلق تھی تھوڑا سا پڑھا پتا چلا کہ اب پڑھنے کا بھی دل نہیں کر رہا تو اوپر والے فلور پر چلا آیا ابھی یہاں پر ایک کمپیوٹر پر قبضہ جما کر بیٹھا ہوا ہوںاور وہیں سے لکھ رہا ہوں آج ایوں یاد آیا کہ ڈفر بھای کا بلاگ دیکھ لیںوہاں سے اپنے بلاگ کی فکر پڑ گیئ تو یہاںبکواس کرنے چلا آیا کھول کر پتا چلا کہ بکواس کرنے کہ لیے دماغ میں کچھ ہے نہیں اسی لیے اپنے پھٹا لگانی کی سٹوری لکھنی شروع کر دی ہے شاید کہ محفوظ رہ جاے مستقبل میںاپنے بچوں کو دکھاوں گا کہ دیکھو میں بھی ایسے ہی پھٹا لگاتا تھا میرا خیال ہے شاید ہی کوی ہو جو سکول سے پھٹا نا لگاتا ہو میرے ابو تو گھر میں ہر وقت شریف بن کر بیٹھے رہتے ہیں ایک دفعہ دادا ابو سے پتا چلا کہ جناب والا بھی سکول سے پھٹا لگاتے رہے ہیں ہیں میں اور میرے ابو میںکافی چیزوں کی طرحایک چیز یہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ایک ہی سکول سے میڑتک کیا ہے میرے ابو نے بھی اور میں نے بھی لاہور کے مسلم ماڈل ہای سکول سے جو کہ اوردو بازار لاہور میں ہے ۔ وہاں سے میرے ابو وہاں سے پھٹا لگا کر ناصر باغ میں جو کہ کچہری پر ہے جا کر کھیلنے لگ جاتے تھے میر تایا ابو اور چچا کے ساتھ میں خیر وہاں سے پھٹا تو کبھی نہیں لگایا کیونکہ میرے لیے پورے چھ گھنٹ ایک باغ میں کھیلنا ناممکن ہے اسی لئے ہاںسکول سے چھٹی کے بعد وہاں جا کر دوستوں کے ساتھ کرکٹ ضرور کھیلی ہے ۔۔۔۔۔ خیر یعنی کے سب نے پھٹا لگایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا کبھی بھی سکول جانے کا دل نہیں کرتا لیکن مجبوری جانا پڑتا ہے کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اوپر سے سب بورنگ ہے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اب شاید میرے پاس لکھنے کے لیے الفاظ ختم ہو گےئ ہیں آپ یہ بکواس پڑھیںمیںاتنی دیر کچھ اور کرتا ہوں
Posted in Uncategorized | Leave a Comment »
January 31, 2009
اصل میں مسلہ یہ ہے کہ مجھے بکواس کرنے کی بڑی عادت ہے ۔۔۔۔ جب تک میں کچھ بکواس نہ کر لوں میری روٹی حضم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ اصل مسلہ میرے بکواس کرنے کا نہیں ہے بلکہ مسلہ یہ ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی بکواس کرتا ہوں اب سارے میری بکواس سن سن کر تنگ آگےء تو میں نے سوچا کچھ بکواس انٹرنیٹ پر ہی کر لیں جسکا دل کرے گا کچھ پڑھ کر مجھے بھی بخش دے گا۔۔۔ خیر یہ بلاگ میں نے صرف بکواس کرنے کے لیے ہی بنایا ہے آپ یہاں پر کمنٹس دے سکتے ہیں ،۔۔۔۔۔ ویسے جب مجھے پتا چلا کے یہاں پر میں مشرف ہوں اور کمنٹس والے عوام تو بڑی خوشی ہوی سوچا جس کے کمنٹس پسند نہیں آیہں گے بس ایویں دلیٹ مار دیں گے۔۔۔۔۔ اس وقت میرا بھی منہ زرداری کے منہ کی طرح ہو رہا ہے جیسے ابھی ابھی کرسی پر بیٹا ہو۔۔۔۔خیر ابھی کے لیے اتنا ہی کافی ہے باقی بعد میں
Posted in Uncategorized | 1 Comment »