h1

school sey phutta

February 23, 2009

ابھی لنچ بریک کے بعد میرا میتھ کا پیریڈ تھا اسکے بعد سپیر یعنی کے کوی کلاس نہیں‌میرا بلکل بھی دل نہیں کیا کہ میتھ کی کلاس میں بھی جاوں مجھے لایبرری سے لای ہوی ان کتابوں کی یاد آیی جو کافی دنوں سے میرے کمپیوٹر میز کے ایک بنا دروازے کے دراز میں پڑیں‌ تھیں‌سوچہ کافی فاین لگ گیا ہو گا پھر انکو اٹھایا اور بیگ میں ڈال کر گھر والوں‌ کو سکول کا تاثر دے کر میں‌نے لایبرری کا قصد کیا یہاں‌ آیا تو سوچا اب ٹایم پاس کرنے کہ کچھ کرنا تو ہے ہی اسی لیے اوردو کتابوں‌والے سیکشن کی طرچ چل دیا وہاں کافی کتابیں آج غایب تھیں‌ شاید دوسری لایبرری میں بھیج دی ہوں‌ خیر مری نظر طارق اسمعیل ساگر کی ایک کتاب کی طرف پڑی جو خالصتان سے متعلق تھی تھوڑا سا پڑھا پتا چلا کہ اب پڑھنے کا بھی دل نہیں کر رہا تو اوپر والے فلور پر چلا آیا ابھی یہاں پر ایک کمپیوٹر پر قبضہ جما کر بیٹھا ہوا ہوں‌اور وہیں سے لکھ رہا ہوں‌ آج ایوں‌ یاد آیا کہ ڈفر بھای کا بلاگ دیکھ لیں‌وہاں سے اپنے بلاگ کی فکر پڑ گیئ تو یہاں‌بکواس کرنے چلا آیا کھول کر پتا چلا کہ بکواس کرنے کہ لیے دماغ میں کچھ ہے نہیں اسی لیے اپنے پھٹا لگانی کی سٹوری لکھنی شروع کر دی ہے شاید کہ محفوظ رہ جاے مستقبل میں‌اپنے بچوں‌ کو دکھاوں‌ گا کہ دیکھو میں بھی ایسے ہی پھٹا لگاتا تھا میرا خیال ہے شاید ہی کوی ہو جو سکول سے پھٹا نا لگاتا ہو میرے ابو تو گھر میں ہر وقت شریف بن کر بیٹھے رہتے ہیں ایک دفعہ دادا ابو سے پتا چلا کہ جناب والا بھی سکول سے پھٹا لگاتے رہے ہیں ہیں‌ میں اور میرے ابو میں‌کافی چیزوں‌ کی طرح‌ایک چیز یہ بھی ہے کہ ہم دونوں نے ایک ہی سکول سے میڑتک کیا ہے میرے ابو نے بھی اور میں‌ نے بھی لاہور کے مسلم ماڈل ہای سکول سے جو کہ اوردو بازار لاہور میں ہے ۔ وہاں‌ سے میرے ابو وہاں سے پھٹا لگا کر ناصر باغ میں‌ جو کہ کچہری پر ہے جا کر کھیلنے لگ جاتے تھے میر تایا ابو اور چچا کے ساتھ میں‌ خیر وہاں‌ سے پھٹا تو کبھی نہیں لگایا کیونکہ میرے لیے پورے چھ گھنٹ؁ ایک باغ میں‌ کھیلنا ناممکن ہے اسی لئے ہاں‌سکول سے چھٹی کے بعد وہاں جا کر دوستوں‌ کے ساتھ کرکٹ ضرور کھیلی ہے ۔۔۔۔۔ خیر یعنی کے سب نے پھٹا لگایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا کبھی بھی سکول جانے کا دل نہیں کرتا لیکن مجبوری جانا پڑتا ہے کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اوپر سے سب بورنگ ہے وہاں‌۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اب شاید میرے پاس لکھنے کے لیے الفاظ ختم ہو گےئ ہیں آپ یہ بکواس پڑھیں‌میں‌اتنی دیر کچھ اور کرتا ہوں‌

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.